معاشی ترقی کے لیے مسابقت، ٹیکس اصلاحات اور پیداواری صلاحیت میں توازن ضروری
پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے اور برآمدات میں پائیدار اضافہ یقینی بنانے کے لیے مینوفیکچرنگ شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ عالمی منڈی میں مقابلے کے لیے ضروری ہے کہ مقامی صنعتوں پر مسابقتی دباؤ میں اضافہ ہو، تاکہ وہ معیار، پیداوار اور لاگت کے اعتبار سے خود کو بہتر بنا سکیں۔ اس طرح نہ صرف برآمدات میں بہتری ممکن ہو گی بلکہ پاکستان عالمی سپلائی چینز میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکے گا۔
دوسری طرف، ٹیکس آمدنی اور جی ڈی پی کے درمیان فرق کو کم کرنے کے لیے بعض نظرانداز شدہ شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی فوری ضرورت ہے۔ زرعی اور ریٹیل و ہول سیل کے شعبے ملک کی معیشت میں بڑا حصہ رکھتے ہیں، لیکن ٹیکس میں ان کا حصہ محدود ہے۔ خاص طور پر زرعی شعبے کو دی جانے والی ٹیکس چھوٹ اور ریٹیل سیکٹر میں ٹیکس چوری جیسے مسائل حکومت کی آمدنی پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔
اگر ان دونوں شعبوں کی ٹیکس نیٹ میں شمولیت بڑھا دی جائے تو نہ صرف مجموعی ٹیکس آمدنی میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ اس سے ٹیکس کا بوجھ بھی مختلف طبقات میں منصفانہ طریقے سے تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ یہ اقدامات صرف مالی استحکام کے لیے ہی نہیں، بلکہ ایک زیادہ متوازن اور شفاف معاشی نظام کی بنیاد رکھنے کے لیے بھی ضروری ہیں۔

Comments
Post a Comment