پی آئی اے کا یورپی روٹس کا دائرہ وسیع: لاہور سے پیرس کے لیے براہِ راست پروازوں کا آغاز

 لاہور: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) نے یورپی مقامات کے لیے اپنے بحال شدہ نیٹ ورک میں توسیع کرتے ہوئے لاہور سے پیرس کے لیے براہِ راست پروازوں کا اعلان کر دیا ہے، جس سے پاکستانی شہری اب بغیر کسی پڑاؤ کے فرانس کا سفر کر سکیں گے۔

جمعرات کو جاری کردہ بیان میں قومی ایئرلائن نے بتایا کہ یہ نیا روٹ ہر بدھ کو لاہور سے فرانس کے دارالحکومت پیرس کے لیے نان اسٹاپ پرواز کی سہولت فراہم کرے گا۔

پی آئی اے کے مطابق، لاہور سے پیرس کے لیے پہلی پرواز 18 جون کو روانہ ہوگی۔

یہ پیش رفت یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (EASA) کی جانب سے ساڑھے چار سالہ پابندی کے خاتمے کے بعد سامنے آئی ہے۔ پابندی جولائی 2020 میں جعلی پائلٹ لائسنس اسکینڈل کے بعد عائد کی گئی تھی، جس نے یورپی حکام کو پی آئی اے کی یورپی فضائی حدود تک رسائی روکنے پر مجبور کیا تھا۔

جنوری 2025 میں پی آئی اے نے یورپ میں اپنی پروازوں کا دوبارہ آغاز کیا، جس کا آغاز 10 جنوری کو اسلام آباد سے پیرس کی پرواز سے ہوا — جو کہ ایئرلائن کے لیے ایک اہم سنگ میل تھا۔

فی الوقت پی آئی اے واحد پاکستانی ایئرلائن ہے جو براہِ راست یورپی یونین کے ممالک کے لیے پروازیں چلا رہی ہے۔ یورپ کے لیے پروازوں کی بحالی اور توسیع کو پی آئی اے کی بین الاقوامی ساکھ کی بحالی اور یورپ میں مقیم پاکستانیوں سے رابطے کے ایک بڑے اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

لاہور-پیرس روٹ نہ صرف کاروباری اور سیاحتی مسافروں بلکہ ان خاندانوں کے لیے بھی سودمند ثابت ہوگا جو پاکستان اور فرانس کے درمیان آسان اور براہِ راست سفر کے خواہاں ہیں۔

پی آئی اے حکام پر امید ہیں کہ یہ نیا روٹ ایئرلائن کی آمدنی میں اضافہ کرے گا اور مسافروں کا اعتماد بحال کرنے میں مدد دے گا۔ ٹکٹ کی قیمتوں اور ریزرویشن سے متعلق مزید تفصیلات آئندہ دنوں میں جاری کی جائیں گی۔

ایوی ایشن ماہرین اس پیش رفت کو بغور مانیٹر کر رہے ہیں اور اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ عالمی شراکت داروں اور مسافروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ایئرلائن کو تسلسل کے ساتھ حفاظتی معیارات اور آپریشنل شفافیت کو برقرار رکھنا ہوگا



Comments

Popular posts from this blog

شدید بارشیں اور طوفان: موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرناک اثر

جرمن چانسلر فریڈرک مرز کا خطرناک اعلان: "۸۰ فیصد شامی باشندے تین سال میں ڈیپورٹ

روٹی اور جان کی جنگ: کیا خلیج میں کام کرنا اب موت کا سودا ہے؟