پاکستان نے بھارتی وزیرِاعظم کے اشتعال انگیز بیانات کو سختی سے مسترد کر دیا

 اسلام آباد: پاکستان نے بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کی جانب سے ریاست راجستھان میں ایک حالیہ عوامی اجتماع کے دوران دیے گئے بے بنیاد، اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے جمعے کو جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی وزیرِاعظم کے ریمارکس غلط بیانی، حقائق کو مسخ کرنے اور اشتعال انگیز زبان سے بھرپور تھے، جو واضح طور پر خطے میں کشیدگی کو ہوا دینے اور سیاسی مفادات حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ایسے بیانات عوام کو گمراہ کرنے کی دانستہ کوشش ہیں اور ایک ذمہ دار ریاست کے اصولوں کے سراسر خلاف ہیں۔
خودمختار ملک کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکیاں دینا اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، جو خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

دفترِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں ایک فعال اور مسلسل کردار ادا کرنے والا ملک ہے۔
پاکستان کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوئی بھی کوشش نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ مکمل طور پر گمراہ کن ہے۔
یہ بھارت کا پرانا حربہ ہے تاکہ اپنی اندرونی ناکامیوں اور بھارتی غیرقانونی زیرِقبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) میں ظلم و ستم سے توجہ ہٹائی جا سکے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ بھارت کی جانب سے کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کو چھپانے کے لیے پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانے کی کوششیں دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکی ہیں اور عالمی برادری اس کا نوٹس بھی لے رہی ہے۔

دفترِ خارجہ نے بھارتی قیادت پر زور دیا کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے۔
ایسے بیانات نہ صرف کشیدگی کو بڑھاتے ہیں بلکہ خطے کے امن کو بھی خطرے میں ڈالتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ بھارت کو جھوٹے بیانیے اور جنگی جنون کے بجائے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے باقی ماندہ تنازعات کو بات چیت اور سفارتی ذرائع سے حل کرنا چاہیے۔

پاکستان نے ایک بار پھر اعادہ کیا کہ وہ پرامن بقائے باہمی، خطے میں استحکام اور تعمیری بات چیت کے لیے پرعزم ہے۔
تاہم امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
پاکستان کے عوام اور مسلح افواج اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار اور اہل ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ اگر بھارت نے کسی بھی قسم کی جارحیت یا مہم جوئی کی کوشش کی تو اسے مؤثر اور بھرپور جواب دیا جائے گا، جس کا مظاہرہ پاکستان ماضی میں بھی کر چکا ہے۔

دفترِ خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کے جارحانہ رویے اور نفرت انگیز بیانیے کا سنجیدگی سے نوٹس لے، جو خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔
تنازعات کو ہوا دینا کسی کے مفاد میں نہیں، پائیدار امن کا راستہ صرف بات چیت، باہمی احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری سے ممکن ہے۔




Comments

Popular posts from this blog

شدید بارشیں اور طوفان: موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرناک اثر

جرمن چانسلر فریڈرک مرز کا خطرناک اعلان: "۸۰ فیصد شامی باشندے تین سال میں ڈیپورٹ

روٹی اور جان کی جنگ: کیا خلیج میں کام کرنا اب موت کا سودا ہے؟