غزہ کے شہر خان یونس میں حماس کے خلاف عوامی




غزہ کے شہر خان یونس میں حماس کے خلاف عوامی مظاہرے، اسرائیلی بمباری میں مزید 46 فلسطینی شہید

غزہ (24 نیوز) —
غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر خان یونس میں عوامی سطح پر حماس کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ ان مظاہروں میں شہریوں نے سیاسی قیادت سے جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کرنے اور سیاسی منظرنامے سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی بمباری کا سلسلہ جاری ہے، جس میں مزید 46 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

خان یونس میں عوامی احتجاج: "ہم جینا چاہتے ہیں"

حالیہ دنوں میں خان یونس میں احتجاج کرنے والے مظاہرین کو بے گھر افراد کے خیموں اور تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے کے درمیان نعرے لگاتے دیکھا گیا۔ مظاہرین کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حماس کی قیادت جنگ اور نقل مکانی کا خاتمہ کرے۔

مظاہرین کے نعرے:

"ہم جینا چاہتے ہیں، ہمیں ایک نوالہ روٹی نہیں مل رہی، غزہ کے لوگ کہاں جائیں؟ جنگ اور نقل مکانی بند کرو۔"

یہ مظاہرے ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب اسرائیل نے غزہ میں زمینی کارروائیوں کو مزید وسعت دے دی ہے۔ علاقے میں قحط کا شدید خطرہ پیدا ہو چکا ہے اور لاکھوں افراد بھوک اور بیماریوں کا شکار ہیں۔

اسرائیلی بمباری سے 46 فلسطینی شہید، درجنوں زخمی

تازہ اطلاعات کے مطابق، اسرائیلی فورسز نے صرف ایک گھنٹے میں 30 فضائی حملے کیے، جن کے نتیجے میں متعدد عمارتیں مکمل طور پر زمین بوس ہو گئیں۔ ان حملوں میں 46 افراد شہید اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔ خاص طور پر ہسپتالوں اور طبی مراکز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ لوگوں کو طبی امداد بھی نہ مل سکے۔

انسانی بحران شدت اختیار کر گیا

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں قحط کا خطرہ بڑھ چکا ہے اور 20 لاکھ افراد بھوک کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس وقت تک 1 لاکھ 21 ہزار سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد کو جبری نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

عالمی ردعمل: اسرائیل پر ممکنہ پابندیاں

عالمی برادری بھی اب اسرائیلی کارروائیوں پر کھل کر بول رہی ہے۔ برطانیہ، فرانس، اور کینیڈا کے رہنماؤں نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے حملے بند نہ کیے تو اس پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ جبکہ 22 ممالک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کے عوام تک انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنائے۔



Comments

Popular posts from this blog

شدید بارشیں اور طوفان: موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرناک اثر

جرمن چانسلر فریڈرک مرز کا خطرناک اعلان: "۸۰ فیصد شامی باشندے تین سال میں ڈیپورٹ

روٹی اور جان کی جنگ: کیا خلیج میں کام کرنا اب موت کا سودا ہے؟