پاکستان اور آئی ایم ایف
پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان حالیہ معاہدہ ملکی معیشت کے استحکام اور ترقی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس معاہدے کے تحت، آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 28 ماہ پر مشتمل 1.3 بلین ڈالر کا نیا قرضہ منظور کیا ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور پائیدار ترقی کے منصوبوں میں مددگار ثابت ہوگا۔
اس کے علاوہ، آئی ایم ایف نے پاکستان کے جاری 37 ماہ کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کی پہلی جائزہ رپورٹ کو بھی منظور کیا ہے، جس سے مزید 1 بلین ڈالر کی قسط جاری ہونے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ اس طرح، مجموعی طور پر پاکستان کو 2 بلین ڈالر کی مالی معاونت ملے گی۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے اس معاہدے کو ملکی معیشت کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 8.3 بلین ڈالر تک پہنچ جائیں گے، جو معیشت کے استحکام میں مددگار ثابت ہوں گے۔
آئی ایم ایف کے مطابق، پاکستان نے معاشی استحکام کی بحالی میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جس میں مہنگائی کی شرح میں کمی اور مالیاتی خسارے میں کمی شامل ہیں۔ تاہم، آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ جغرافیائی سیاسی چیلنجز، عالمی مالیاتی حالات اور تجارتی پابندیاں معیشت کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
پاکستان کی وزارت خزانہ کے مطابق، مارچ میں مہنگائی کی شرح 1% سے 1.5% کے درمیان رہنے کا امکان ہے، جو فروری میں تقریباً ایک دہائی کی کم ترین سطح 1.5% پر تھی۔ تاہم، اپریل میں مہنگائی میں معمولی اضافہ متوقع ہے۔
اس معاہدے کے تحت، پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، اور سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے کام کرے گا۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات معیشت کی پائیدار ترقی اور استحکام میں مددگار ثابت ہوں گے۔
مجموعی طور پر، آئی ایم ایف کے ساتھ یہ معاہدہ پاکستان کی معیشت کے استحکام اور ترقی کی جانب ایک مثبت قدم ہے، جو ملک کو مالیاتی چیلنجز سے نمٹنے اور پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہونے میں مدد دے گا۔
Comments
Post a Comment