عدلیہ کی بنیادوں میں بارُود
اسلام آباد ہائیکورٹ ایک عرصے سے شدید اضطراب اور ہیجان کی کیفیت میں ہے۔ یہ ارتعاش چھبیسویں ترمیم سے پہلے ہی نمایاں تھا، مگر اس کی اصل وجہ کا تعین کرنا مشکل ہے۔ تاہم، کئی صحافی اور مبصرین اس کیفیت کو تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی گرفتاری، مقدمات اور عدلیہ کے ان کے ساتھ روا رکھے گئے رویے سے جوڑتے ہیں۔
عالی عدالتوں کا عمران خان کے لیے رویہ ہمیشہ مشفقانہ، ہمدردانہ بلکہ بعض اوقات جذباتی دکھائی دیا۔ ان کی پہلی گرفتاری کے بعد خصوصی عدالت کے احکامات نے اس تاثر کو مزید تقویت بخشی۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے خان صاحب کے لیے خصوصی انتظامات کے احکامات صادر کیے، یہاں تک کہ انہیں پولیس لائن کے آرام دہ بنگلے میں رکھنے کا حکم بھی دیا۔ اس طرز عمل نے واضح کر دیا کہ عمران خان کو عام سیاسی قیدیوں کی طرح نہیں دیکھا جا رہا۔
یہ عدالتی رویہ کسی روایت سے خالی نہیں تھا۔ عمر عطا بندیال اس تسلسل کو مزید تقویت دے رہے تھے جس کی بنیاد آصف سعید کھوسہ، عظمت سعید شیخ، اور ثاقب نثار جیسے ججز نے رکھی تھی۔ مگر جب قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کا منصب سنبھالا تو اس روایت کے علمبرداروں کی پرواز محدود ہوگئی۔
پھر، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ جج صاحبان کا شہرۂِ آفاق خط منظرِ عام پر آیا، جس نے ایک نئی ہلچل مچا دی۔ اس خط میں ایجنسیوں کی مداخلت کا ذکر کیا گیا تھا، مگر یہ کوئی غیر معمولی انکشاف نہ تھا۔ ان چھ جج صاحبان، بشمول جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز، عدلیہ کی روایات اور ملکی حالات سے بخوبی واقف تھے۔
یہی جسٹس محسن اختر کیانی وہی جج ہیں جو اس وقت بھی اسلام آباد ہائیکورٹ کا حصہ تھے جب 2018 میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو ایجنسیوں کے کردار پر تنقید کی پاداش میں عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔ تب جسٹس اطہر من اللہ سمیت کئی جج خاموش رہے، اور بعد میں انہیں چیف جسٹس بننے کا موقع بھی ملا۔
اب ایک سال بعد، خطوط اور عدالتی بیانات کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کا حالیہ تبصرہ، جس میں انہوں نے مقدمہ اپنی کاز لسٹ سے نکالے جانے پر کہا کہ ’’اس سے پہلے میری عدالت کی بنیادوں میں بارُود رکھ کر اُڑا دیتے،‘‘ نے مزید تنازع کھڑا کر دیا۔ اسی مقدمے میں عمران خان کی وکیل مشال یوسف زئی نے کہا کہ اگر ان کے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہے تو جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے ساتھ کیا ہو رہا ہوگا؟ جس پر جج صاحب نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو گائیڈڈ میزائل آپ کی طرف جا رہا تھا، وہ اب ہماری طرف آ رہا ہے۔
یہ تمام معاملہ عمران خان کی جیل میں ملاقاتوں اور سہولتوں سے متعلق دائر کردہ 26 درخواستوں کے گرد گھومتا ہے۔ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے چیف جسٹس کو درخواست دی کہ ان درخواستوں کو یکجا کر کے ایک بڑا بینچ سنے تاکہ عدالتی ہدایات میں یکسانیت رہے۔ قائم مقام چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے اس تجویز پر تین رکنی بینچ تشکیل دیا، مگر جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے اس فیصلے کو عدالتی قواعد کے منافی قرار دیتے ہوئے شدید برہمی کا اظہار کیا۔
یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ آیا جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کا مؤقف درست ہے یا سہ رکنی بینچ کا، مگر یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ عدلیہ کی تاریخ میں ایسے فیصلے موجود ہیں جنہوں نے جمہوریت اور پارلیمان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ جسٹس منیر سے لے کر آج تک، کئی ججز کے فیصلے آئین و قانون کے ساتھ وہی سلوک کرتے رہے ہیں جو بے ہنر قصاب قربانی کے جانوروں کے ساتھ کرتے ہیں۔
Comments
Post a Comment