میرا تو کوئی باپ یا بھائی ہی نہیں!
خواتین کے عالمی دن کا اجلاس جاری تھا۔ ہر کلاس کی خواتین کا جمِ غفیر تھا ۔ نچلے طبقے کی ایسی عورتیں بھی وہاں موجود تھیں جن کو پیسوں کا لالچ دے کر کچھ لوگ وہاں بسوں پر بیھا کر لے آئے تھے۔ وہ اس بات سے لاعلم تھیں کہ آخر یہ کس بات کا اجلاس ہے؟ انہی میں نادیہ بھی تھی۔ نادیہ ایک خواجہ سرا تھی۔ اس کو کافی دنوں سے کوئی فنکشن نہ ملا تھا جس کی وجہ سے اُس کی دیہاڑی نہ لگی تھی۔
موسم میں عجیب سی خنکی تھی جس کی وجہ سے کافی لوگ نزلہ ، زکام اور گلے خراب جیسے انفیکشنز میں تیزی سے مبتلا ہو رہے تھے۔ اس دفعہ تو جسے لاہور میں یہ انفیکشن لگتا وہ کم از کم مہینہ بھر ٹھیک نہ ہوتا تھا۔ نادیہ بھی کوئی دو ہفتے سے اسی وباء کے زیر اثر تھی اور بُری طرح بخار میں پھنک رہی تھی۔ بھلے وقتوں میں نادیہ کا باپ اپنے دوسرے بچوں سے چھپا کر پرانے محلے میں ایک مرلے کا کمرہ اس کے نام کر گیا تھا۔ نادیہ نے ہوش سنبھالتے ہی خود کو زمانے کے رحم و کرم پر پایا تھا اور خود محنت کرکے شادی و بیاہ کے فنکشنز اور گلی گلی ناچ کر روزی روٹی کمائی تھی۔ اس کا باپ مرنے سے پہلے کبھی کبھا ر رات کے اندھیرے میں لوگوں سے منہ چھپا کر اس سے کوئی ایک آدھ گھنٹے کے لیے ملنے آ جایا کرتا تھا ۔
اور یہ کمرہ ہی اس کی کل کائنات تھی اسی میں اس کا بستر بھی تھا اور چولہا بھی۔ ابھی کوئی دو ، چار دن سے نادیہ کی صحت کچھ بہتر ہو گئی تھی اتنے عرصے میں و ہ یہ سوچتی رہی کہ کاش وہ خواجہ سرا نہ ہوتی بلکہ ایک عورت ہوتی، اس کا بھی کوئی باپ، بھائی ، شوہر یا بیٹا ہوتا جو اس کی عزت کا محافظ ہوتا اور اس کا احساس کرتا اسے گھر کی چار دیواری میں کسی قیمتی چیز کی طرح رکھتا اور اسے یوں سڑکوں کی خاک نہ چھاننی پڑتی۔ وہ کما کر لاتے اور میں گھر میں ان کے لیے کھانا گرم کرتی، کپڑے استری کرتی اور ان کے موزے دھوتی اور جب وہ اپنی ضرورتوں اور کاموں کے لیے اسے پکارتے تو وہ سر پٹ پورے گھر میں دوڑے پھرتی اور خوشی خوشی سارے کام انجام دیتی۔
وہ ابھی انہی سوچوں میں مگن دیہاڑی پر جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی کہ دروازہ زور زور سے بجنے لگا۔ اس نے دروازہ کھولا تو سامنے گرو "امجد" کا چیلا "رشید " کھڑا تھا ۔ اُس نے خبر دی کہ نادیہ ہم کوئی دس لوگ مل کر ایک ریلی میں جارہے ہیں جہاں ہمارے مطالبات مانے جائیں گےاور ہمیں بھی حقوق ملیں گے اور سرکار ہمارے لیے مناسب ملازمت کا انتظام کرے گی اور ہم مہنگائی میں کمی کرنے پر بھی بات کریں گے۔ اس مہنگائی کی وجہ سے تو ہمارے فنکشنز بھی ماند پڑ گئے ہیں اور لوگوں نے ہمیں بُلانا ہی چھوڑ دیا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر ہمیں واپسی پر وہاں سے پیسے بھی ملیں گے۔ نادیہ یہ بات سن کر خوش ہو گئی کہ ہو سکتا ہے کہ ہمارے مطالبات مان لیے جائیں نہیں تو پیسے ہی سہی۔
ایک چھوٹے سے غریب دیہات سے بس چلی اور کوئی ایک بجے کے قریب وہ جلسہ گاہ پہنچے اور جمِ غفیرکو کاٹتے ہوئے ہجوم میں جانے کی کوشش کرنے لگے تو وہیں کچھ ٹی وی والے ، یو ٹیوبرز اورنیوز اینکرز بھی کھڑے تھے۔ ان میں سے ایک تیزی سے نادیہ کی طرف لپکا اور سوال کیا کہ وہ کس لیے آئی ہیں؟ جواب میں نادیہ نے کہا کہ آج ہم مہنگائی کم کرانے اپنے حقوق اور مطالبات منوانے کے لیے یہاں آئےہیں ۔ اس کی بات کا سُننا تھا کہ وہاں کھڑے تقریباً تمام ہی نیوز اینکرز ہنس پڑے اور پوچھنے لگے کہ کوئی پیسوں کا وعدہ بھی کیا ہے یہاں لانے والوں نے ؟ نادیہ جو پہلے ہی ان کو حیرانگی سے دیکھ رہی تھی ہاں میں سر ہلانے لگی۔مزید سوالات کے لیے کچھ اور لوگ بھی مائیک ہاتھوں میں تھامے اس کی طرف بڑھے مگر وہ ان سے جان چھڑوا کر آگے نکل گئی۔ نادیہ کو یہ دیکھ کر حیرت کا جھٹکا لگا کہ یہاں کچھ بھی ایسا نہ تھا جس کا وہ سوچ کر آئی تھی۔
یہاں پر خواتین نازیبا لباس میں ملبوس عجیب بے ڈھنگا سا ڈانس کر رہیں تھیں۔ میوزک بلند آواز سے چل رہا تھا کہیں تقریریں ہو رہی تھیں اور کہیں پر خواتین بغیر دوپٹوں اور بازؤ کپڑے پہنے شارٹ کٹ بالوں میں سڑک پر عجیب عجیب سےتماشے کر رہیں تھیں ۔ بہت شور غل اور دھکم پیل تھی۔ ان عورتوں نے بہت سے پلے کارڈز بھی اُٹھا رکھے تھےجن کے بارے میں کچھ لوگ باہر بھی چہ مگوئیاں کر رہے تھے۔ نادیہ نے ساتھ بیٹھی معمر خاتون سے ان کے بارے میں دریافت کیا تو اُس نے کہا کہ ہم یہاں مردوں سے آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ ان کارڈز پر "میرا جسم ، میری مرضی" ، "اپنا کھانا خود گرم کرو"، "اپنے موزے خود تلاش کرو" اور اس جیسی کئی نا قابل بیان باتیں درج تھیں ۔ یہ سُننا تھا کہ نادیہ کو حیرت کا ایک جھٹکا لگا اُسے لگا کہ اس رنگ و بُو اور بے ہنگم شور سے اس کا جی متلانے لگا ہے یا پھر وہ اتنے دنوں سے بیما ر رہی تھی اُس کی وجہ سے کمزوری تھی۔
نادیہ کو ایک تو اس بات کا رنج تھا کہ جھوٹ بول کر انھیں یہاں لایا گیا تھا اور اُس کی دیہاڑی بھی گُل ہو گئی۔ اُسے کون سا باپ ، بھائی ، شوہر یا بیٹے کی آس تھی جو محنت مزدوری کر کے کما کر لاتا اور اُس کاچولہا جلتا۔ اُسے خود گلیوں گلیوں ناچ کر روپیہ روپیہ اکھٹا کرنا پڑتا تھا اور وہ سوچ رہی تھی کہ یہ عورتیں جو آزادی مانگ رہیں ہیں ان کی جنگ کس سے ہے؟
یہاں پر خواتین نازیبا لباس میں ملبوس عجیب بے ڈھنگا سا ڈانس کر رہیں تھیں۔ میوزک بلند آواز سے چل رہا تھا کہیں تقریریں ہو رہی تھیں اور کہیں پر خواتین بغیر دوپٹوں اور بازؤ کپڑے پہنے شارٹ کٹ بالوں میں سڑک پر عجیب عجیب سےتماشے کر رہیں تھیں ۔ بہت شور غل اور دھکم پیل تھی۔ ان عورتوں نے بہت سے پلے کارڈز بھی اُٹھا رکھے تھےجن کے بارے میں کچھ لوگ باہر بھی چہ مگوئیاں کر رہے تھے۔ نادیہ نے ساتھ بیٹھی معمر خاتون سے ان کے بارے میں دریافت کیا تو اُس نے کہا کہ ہم یہاں مردوں سے آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ ان کارڈز پر "میرا جسم ، میری مرضی" ، "اپنا کھانا خود گرم کرو"، "اپنے موزے خود تلاش کرو" اور اس جیسی کئی نا قابل بیان باتیں درج تھیں ۔ یہ سُننا تھا کہ نادیہ کو حیرت کا ایک جھٹکا لگا اُسے لگا کہ اس رنگ و بُو اور بے ہنگم شور سے اس کا جی متلانے لگا ہے یا پھر وہ اتنے دنوں سے بیما ر رہی تھی اُس کی وجہ سے کمزوری تھی۔
نادیہ کو ایک تو اس بات کا رنج تھا کہ جھوٹ بول کر انھیں یہاں لایا گیا تھا اور اُس کی دیہاڑی بھی گُل ہو گئی۔ اُسے کون سا باپ ، بھائی ، شوہر یا بیٹے کی آس تھی جو محنت مزدوری کر کے کما کر لاتا اور اُس کاچولہا جلتا۔ اُسے خود گلیوں گلیوں ناچ کر روپیہ روپیہ اکھٹا کرنا پڑتا تھا اور وہ سوچ رہی تھی کہ یہ عورتیں جو آزادی مانگ رہیں ہیں ان کی جنگ کس سے ہے؟
Comments
Post a Comment