پاکستان نے خان اکیڈمی کے ساتھ شراکت داری کی تاکہ اسکولوں میں اے آئی ٹیوٹر خانمیگو متعارف کرایا جا سکے

 



پاکستان نے خان اکیڈمی کے ساتھ شراکت داری کی تاکہ اسکولوں میں اے آئی ٹیوٹر خانمیگو متعارف کرایا جا سکے

ذاتی نوعیت کی تعلیم کے ذریعے تعلیمی انقلاب کی جانب ایک اہم قدم

اسلام آباد، 4 مارچ 2025 – وزارتِ وفاقی تعلیم نے خان اکیڈمی کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے ہیں تاکہ اس کے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ٹیوٹر، خانمیگو، کو پاکستانی اسکولوں میں متعارف کرایا جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد طلبہ کو انفرادی تعلیمی ضروریات کے مطابق ذاتی نوعیت کی تعلیم فراہم کرنا ہے۔

دستخطی تقریب میں پارلیمانی سیکریٹری فرح ناز اکبر اور خان اکیڈمی (پاکستان) کے سی ای او ذیشان حسن نے شرکت کی۔ یہ شراکت حکومت کی تعلیمی معیار کو بہتر بنانے اور ٹیکنالوجی کے ذریعے تعلیم کو جدید بنانے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

خان اکیڈمی کے بارے میں

خان اکیڈمی ایک معروف امریکی غیر منافع بخش ادارہ ہے جسے 2006 میں سلمان خان نے قائم کیا۔ یہ دنیا بھر میں طلبہ کو معیاری تعلیم کی مفت، آن لائن فراہمی کے لیے وقف ہے اور انٹرایکٹو ٹولز کے ذریعے تعلیم کو سب کے لیے قابلِ رسائی بناتا ہے۔

عملدرآمد کا منصوبہ

اس شراکت کے تحت، خان اکیڈمی وفاقی نظامت تعلیم (FDE) کے اساتذہ کو اپنے اے آئی پر مبنی تعلیمی نظام کے موثر استعمال کی تربیت دے گا۔ اس کا ابتدائی نفاذ اسلام آباد کے 432 سرکاری اسکولوں میں کیا جائے گا، جس سے 3 لاکھ سے زائد طلبہ مستفید ہوں گے، بالخصوص مڈل اسکول کے طلبہ کے لیے۔

تعلیم پر اثرات

یہ اقدام پاکستان کے تعلیمی شعبے میں ایک انقلابی تبدیلی کا باعث بنے گا۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی ذاتی نوعیت کی تعلیم کی شمولیت سے طلبہ کو انفرادی سیکھنے کی ضروریات کے مطابق مدد فراہم کی جائے گی، جس سے مجموعی تعلیمی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔

وفاقی سیکریٹری تعلیم، محی الدین احمد وانی نے اس شراکت داری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا، “ہم خان اکیڈمی کے ساتھ شراکت داری پر بہت خوش ہیں تاکہ ہمارے طلبہ کو ذاتی نوعیت کی تعلیم فراہم کی جا سکے۔ یہ اقدام ہمارے وژن کے مطابق ہے کہ ہم اپنے طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کریں جو انہیں 21ویں صدی میں کامیابی کے لیے تیار کرے۔”

خان اکیڈمی (پاکستان) کے چیئرمین، عثمان رشید نے بھی اس شراکت داری پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “ہمیں یقین ہے کہ ہر طالب علم کو عالمی معیار کی تعلیم تک رسائی حاصل ہونی چاہیے، اور ہم وزارتِ وفاقی تعلیم کے ساتھ مل کر اس خواب کو پاکستان میں حقیقت بنانے کے لیے پرجوش ہیں۔ یہ شراکت داری ملک کے تعلیمی شعبے میں ایک اہم سنگ میل ہے، اور ہم اس کے اساتذہ اور طلبہ پر مثبت اثرات دیکھنے کے منتظر ہیں۔”

نتیجہ

اس مفاہمتی یادداشت کے ساتھ، پاکستان ان ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے جو خان اکیڈمی کے وسائل کو تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے بروئے کار لا رہے ہیں۔ سرکاری اسکولوں میں خانمیگو اے آئی کی شمولیت تعلیمی نظام کو جدید بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جو ایک زیادہ جامع اور موثر تعلیمی ماحول کی راہ ہموار کرے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

شدید بارشیں اور طوفان: موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرناک اثر

جرمن چانسلر فریڈرک مرز کا خطرناک اعلان: "۸۰ فیصد شامی باشندے تین سال میں ڈیپورٹ

روٹی اور جان کی جنگ: کیا خلیج میں کام کرنا اب موت کا سودا ہے؟