مصطفیٰ عامر قتل کیس: پولیس نے ارمغان کے موبائل سے برآمد ویڈیو کی حقیقت واضح کر دی

 




یہ خبر پولیس کی تصدیق کے مطابق لکھی گئی ہے کہ ملزم ارمغان کے موبائل فون سے برآمد ہونے والی ویڈیو مقتول مصطفیٰ عامر کی نہیں ہے۔

ویڈیو کا پس منظر:
تفصیلات کے مطابق، پولیس نے مرکزی ملزم ارمغان کے موبائل فون سے ایک ویڈیو برآمد کی، جو مبینہ طور پر نیو ایئر نائٹ کی تھی اور بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ ابتدا میں یہ تاثر دیا گیا کہ اس ویڈیو میں نظر آنے والا لڑکا مصطفیٰ ہے اور یہی جھگڑے کی وجہ بنی، تاہم پولیس اور مصطفیٰ کے اہلِ خانہ نے واضح کیا کہ ویڈیو میں موجود شخص مصطفیٰ نہیں بلکہ کوئی اور ہے۔

تشدد اور پولیس افسر کی ملی بھگت:
پولیس تفتیش کے مطابق، قتل سے قبل ارمغان نے ایک لڑکی کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد اسے اسپتال منتقل کیا گیا، مگر ارمغان کے اثر و رسوخ کے باعث پولیس نے کوئی مقدمہ درج نہیں کیا۔

پولیس کے مطابق، کال ریکارڈ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسسٹنٹ سب انسپکٹر (ASI) ندیم ملزم ارمغان کے ساتھ رابطے میں تھا۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل (DIG) ساؤتھ اسد رضا کا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت ASI ندیم گزری تھانے میں ڈیوٹی پر مامور تھا اور اس نے ملزم کو سہولت فراہم کی۔ تاہم، انسدادِ پرتشدد جرائم سیل (AVCC) نے تاحال ASI کو گرفتار نہیں کیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک سینئر افسر کو مقرر کیا گیا ہے اور انکوائری مکمل ہونے کے بعد کارروائی کی جائے گی۔

عدالتی کارروائی:
گزشتہ ہفتے انسدادِ دہشت گردی عدالت (ATC) نے مصطفیٰ عامر قتل کیس میں مرکزی ملزم ارمغان کے جسمانی ریمانڈ میں پانچ دن کی توسیع کی تھی۔ عدالت نے شریک ملزم شیراز بخاری عرف شاویز کے ریمانڈ میں بھی توسیع کی اور اس کا طبی معائنہ کرانے کی ہدایت دی۔

قتل کیس کی تفصیلات:
یہ کیس بی بی اے کے طالبعلم مصطفیٰ کے مبینہ اغوا اور قتل سے جڑا ہوا ہے، جو 6 جنوری کو لاپتہ ہوگیا تھا۔ پولیس نے 8 فروری کو ایک چھاپے کے دوران ملزمان کو گرفتار کرلیا، مگر مصطفیٰ کا کچھ پتا نہ چل سکا، یہاں تک کہ حکام نے انکشاف کیا کہ حب چیک پوسٹ کے قریب ایک جلی ہوئی گاڑی سے کچھ انسانی باقیات ملی تھیں۔

یہ لاش ابتدائی طور پر ایدھی فاؤنڈیشن نے دفنا دی تھی، تاہم عدالت کے حکم پر اس کی دوبارہ تدفین سے قبل شناخت اور فرانزک کے لیے نکالا گیا۔ بعد ازاں، لیبارٹری ٹیسٹ سے تصدیق ہوئی کہ یہ لاش مصطفیٰ کی تھی۔

دونوں ملزمان نے مختلف مواقع پر نوجوان کو قتل کرنے اور لاش کو مذکورہ مقام پر جلانے کا اعتراف کیا ہے۔

تحقیقات کا دائرہ وسیع:
اب تحقیقات کا دائرہ مزید بڑھا دیا گیا ہے اور AVCC نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (FIA) سے رابطہ کیا ہے تاکہ ارمغان کے گھر سے دریافت ہونے والے کال سینٹر کی نوعیت کا پتا لگایا جا سکے۔

Comments

Popular posts from this blog

شدید بارشیں اور طوفان: موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرناک اثر

جرمن چانسلر فریڈرک مرز کا خطرناک اعلان: "۸۰ فیصد شامی باشندے تین سال میں ڈیپورٹ

روٹی اور جان کی جنگ: کیا خلیج میں کام کرنا اب موت کا سودا ہے؟