PTI سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کر رہی ہے

 




PTI سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کر رہی ہے

پاکستان تحریک انصاف (PTI) نے ہفتے کے روز سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کر دیا، جسے پارٹی نے آئین کے بنیادی اصولوں کے منافی قرار دیا ہے۔ یہ 26ویں ترمیم کے خلاف دائر ہونے والی 16ویں درخواست ہے۔

26ویں ترمیم پر تنازع

اکتوبر 2024 میں پارلیمنٹ نے آئین میں تبدیلیاں منظور کیں، جن میں چیف جسٹس کی تعیناتی کا اختیار مقننہ کو دینا، چیف جسٹس کے عہدے کی مدت کا تعین، اور آئینی بنچوں کی تشکیل شامل تھی۔

یہ ترامیم ایک غیر معمولی پارلیمانی اجلاس میں منظور کی گئیں، جو اتوار کے روز، عام تعطیل کے دن، بلایا گیا تھا اور رات بھر جاری رہا۔

PTI اور دیگر اپوزیشن کا موقف

ترمیم کی منظوری کے بعد، PTI اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے اسے عدلیہ کو کمزور کرنے کی کوشش قرار دیا۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس ترمیم کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کو صرف پارلیمنٹ ہی ختم کر سکتی ہے اور کسی بھی ادارے کی جانب سے اسے کالعدم قرار دینے کی کوشش ناقابل قبول ہوگی۔

PTI کی درخواست کا متن

PTI نے اپنی درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ 26ویں ترمیم کو آئین کے بنیادی اصولوں، بشمول عدلیہ کی آزادی، قانون کی حکمرانی، وفاقیت، اختیارات کی علیحدگی، پارلیمانی جمہوریت، اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے کر کالعدم قرار دیا جائے۔

درخواست میں آئینی ترامیم کے طریقہ کار کو بھی غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ترامیم غیر مکمل پارلیمنٹ، اراکین پارلیمنٹ پر دباؤ، اور منحرف اراکین کے ووٹ شامل کرنے کی بنا پر منظور کی گئیں۔

اہم نکات

درخواست میں عدالت سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ:

  • 26ویں ترمیم کے تحت کیے گئے تمام فیصلے، تعیناتیاں اور اقدامات غیر قانونی قرار دیے جائیں۔
  • سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) ترمیمی ایکٹ 2024 اور سپریم کورٹ (ججز کی تعداد) ترمیمی ایکٹ 2024 کو غیر آئینی قرار دیا جائے۔
  • عدالتی کمیشن کو، جیسا کہ ترمیم کے تحت دوبارہ تشکیل دیا گیا ہے، کسی بھی کارروائی یا تعیناتی سے روکا جائے۔
  • آئینی بنچوں اور اضافی ججوں کی تقرری کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔

سیاسی اور قانونی اثرات

یہ مقدمہ پاکستان کے آئینی منظرنامے میں ایک اور پیچیدہ بحث کو جنم دے سکتا ہے، جہاں عدلیہ کی آزادی اور مقننہ کے اختیارات کے درمیان توازن کو بار بار چیلنج کیا جاتا رہا ہے۔ PTI کے اس اقدام سے نہ صرف آئینی مسائل پر بحث تیز ہوگی بلکہ سیاسی محاذ پر بھی کشیدگی میں اضافہ متوقع ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

شدید بارشیں اور طوفان: موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرناک اثر

جرمن چانسلر فریڈرک مرز کا خطرناک اعلان: "۸۰ فیصد شامی باشندے تین سال میں ڈیپورٹ

روٹی اور جان کی جنگ: کیا خلیج میں کام کرنا اب موت کا سودا ہے؟