برطانوی شہریوں کو پاکستان کے مختلف علاقوں میں سفر سے گریز کرنے کی ہدایت

 



برطانوی شہریوں کو پاکستان کے مختلف علاقوں میں سفر سے گریز کرنے کی ہدایت

پاکستان-افغانستان سرحد کے 10 میل کے اندر اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں سفر نہ کرنے کی تجویز

برطانوی حکومت نے اپنے شہریوں کو پاکستان کے مختلف علاقوں میں جاری حفاظتی خطرات کی وجہ سے سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ برطانوی دفتر خارجہ، کامن ویلتھ اور ترقیاتی امور (FCDO) نے منگل کے روز ایک اپ ڈیٹڈ سفری مشورہ جاری کیا ہے، جس میں خطرے والے علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پاکستان-افغانستان سرحد کے قریبی علاقے خطرے سے دوچار

FCDO نے برطانوی شہریوں کو پاکستان-افغانستان سرحد کے 10 میل کے اندر موجود علاقوں میں سفر نہ کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس کے علاوہ، خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں بھی برطانوی شہریوں کو سفر کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جن میں باجوڑ، بنوں، بونیر، چارسدہ، ڈیرہ اسماعیل خان، خیبر، کوہاٹ، کرم، لکی مروت، لوئر دیر، مہمند، اورکزئی، پشاور، سوات، ٹانک، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان کے علاقے شامل ہیں۔

کراکورم ہائی وے اور بالوچستان میں سفر پر پابندیاں

برطانوی شہریوں کو مانسہرہ اور چلاس کے درمیان کراکورم ہائی وے پر اور مردان سے چترال جانے والی N45 ہائی وے، بشمول کلیش وادی میں بھی سفر نہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ مزید برآں، FCDO نے بلوچستان کے تمام علاقوں میں سفر پر پابندی لگائی ہے، سوائے صوبے کے جنوبی ساحلی علاقے کے۔ ان علاقوں میں صرف ضروری سفر کی اجازت دی گئی ہے، خصوصاً N10 موٹروے اور N25 کی ایک سیکشن کے جنوبی حصے تک، جس میں گوادر بھی شامل ہے۔

آزاد جموں و کشمیر اور سندھ میں سفر سے احتیاط

FCDO نے آزاد جموں و کشمیر کے لائن آف کنٹرول کے 10 میل کے اندر سفر پر بھی پابندی عائد کی ہے اور سندھ کے بعض علاقوں میں سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، خاص طور پر نوابشاہ کے شمالی علاقے۔

پاکستان میں دہشت گردی اور عسکری کارروائیاں

پاکستان کے خیبر پختونخوا اور بلوچستان صوبوں میں دہشت گردانہ حملوں کی تعداد میں حالیہ دنوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جو افغانستان کے قریب ہیں۔ ان حملوں کا مقصد پولیس اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانا ہوتا ہے۔

اسلام آباد نے کابل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے علاقے کو پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ اس کے ساتھ ہی سکیورٹی فورسز کی طرف سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، جن میں گزشتہ ہفتے افغان طالبان کے 15 ارکان سمیت 15 شدت پسندوں کا صفایا کیا گیا۔

2024 کی تیسری سہ ماہی (جولائی سے ستمبر) میں دہشت گردی کے واقعات میں 90 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جس میں 722 افراد ہلاک ہوئے اور 615 زخمی ہوئے۔ ان میں سے زیادہ تر ہلاکتیں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوئیں، جو گزشتہ دس سالوں میں سب سے زیادہ ہیں۔

خلاصہ

برطانوی دفتر خارجہ نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں سفر کرنے والے اپنے شہریوں کو احتیاط کی ہدایت کی ہے، خاص طور پر وہ علاقے جو افغانستان کی سرحد کے قریب ہیں اور جہاں دہشت گردی کی کارروائیاں جاری ہیں۔ اس مشورے میں خیبر پختونخوا، بلوچستان اور آزاد جموں و کشمیر جیسے حساس علاقوں میں سفر سے گریز کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

شدید بارشیں اور طوفان: موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرناک اثر

جرمن چانسلر فریڈرک مرز کا خطرناک اعلان: "۸۰ فیصد شامی باشندے تین سال میں ڈیپورٹ

روٹی اور جان کی جنگ: کیا خلیج میں کام کرنا اب موت کا سودا ہے؟