پی ٹی آئی نے وزیراعظم شہباز شریف کے مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کر دیا
**پی ٹی آئی نے وزیراعظم شہباز شریف کے مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کر دیا، حکومت نے غیر جمہوری اقدام پر تنقید کی**
**"پی ٹی آئی نے اپنے مطالبات پورے کرنے کا ایک اچھا موقع کھو دیا"، سینیٹر عرفان صدیقی**
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے سیاسی تناؤ کم کرنے کے لیے مذاکرات کی پیشکش کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے مسترد کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے آج پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کی پیشکش کی تھی تاکہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکے۔ تاہم، پی ٹی آئی نے یہ کہتے ہوئے پیشکش مسترد کر دی کہ حکومت نے 9 مئی 2023 اور 26 نومبر 2024 کے واقعات کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم نہیں کیا۔
پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب خان نے جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں کہا کہ "ہم وزیراعظم شہباز شریف کی مذاکرات کی پیشکش مسترد کرتے ہیں"۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے مذاکراتی کمیٹی کو مخلصانہ طور پر تشکیل دیا تھا، لیکن حکومت نے ہمارے مطالبات پورے نہیں کیے۔ عمر ایوب نے تمام "سیاسی قیدیوں" کی رہائی کا مطالبہ دہرایا۔
حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے یکطرفہ طور پر مذاکرات سے دستبرداری کا فیصلہ کر کے غیر جمہوری اور غیر سیاسی ذہنیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "پی ٹی آئی نے اپنے مطالبات پورے کرنے کا ایک اچھا موقع کھو دیا"۔ سینیٹر صدیقی نے کہا کہ اگرچہ پی ٹی آئی نے یہ موقع کھو دیا ہے، لیکن انہیں وزیراعظم کی تازہ پیشکش سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
انہوں نے پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں دھرنوں اور لانگ مارچ کے ذریعے پی ٹی آئی اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکی اور نہ ہی اس بار کر پائے گی۔ سینیٹر صدیقی نے زور دے کر کہا کہ ملک میں سیاسی تناؤ کو کم کرنے کے لیے مذاکرات ہی واحد حل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "جتنی جلدی پی ٹی آئی اس بات کو سمجھے گی، ان کے لیے اتنا ہی بہتر ہو گا"۔
**پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی صورتحال**
حکومت اور عمران خان کی قیادت والی پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات گزشتہ ہفتے ناکام ہو گئے تھے جب پی ٹی آئی نے جیل میں موجود پارٹی سربراہ کے احکامات پر مذاکرات سے دستبرداری کا اعلان کر دیا۔ پی ٹی آئی نے چوتھے دور کے مذاکرات میں شرکت سے انکار کر دیا اور کہا کہ عدالتی کمیشنز کے قیام کے بعد ہی مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔
پی ٹی آئی نے اپنے مطالبات حکومتی کمیٹی کو تحریری طور پر پیش کیے تھے، جن میں 9 مئی 2023 اور 26 نومبر 2024 کے واقعات کی تحقیقات اور تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ شامل تھا۔ پارٹی نے کہا تھا کہ اگر حکومت نے سات دن کے اندر عدالتی کمیشن قائم نہیں کیا تو وہ مذاکرات جاری نہیں رکھے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے تمام اتحادی جماعتوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی تھی تاکہ پی ٹی آئی کے مطالبات کا جواب دیا جا سکے۔ تاہم، پی ٹی آئی کے مطالبوں پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے مذاکرات کا عمل رک گیا ہے۔
**سیاسی تناؤ کم کرنے کے لیے مذاکرات کی اہمیت**
سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کے لیے مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اپنی احتجاجی سیاست پر نظرثانی کرنی چاہیے اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر واپس آنا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ "ہر مسئلے کا حل مذاکرات میں ہے"۔
Comments
Post a Comment