وزیراعظم نے پی ٹی آئی کے مطالبات پر غور کے لیے کمیٹی تشکیل دی

    



وزیراعظم نے پی ٹی آئی کے مطالبات پر غور کے لیے کمیٹی تشکیل دی

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مطالبات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے، جس میں تمام حکومتی جماعتوں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ معاون خصوصی برائے سیاسی امور رانا ثناءاللہ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران اس بات کا اعلان کیا۔

پی ٹی آئی کے مطالبات اور حکومتی مؤقف

پی ٹی آئی نے تحریری طور پر 22 نکات پر مشتمل چارٹر پیش کیا ہے، جس میں 9 مئی 2023 اور 26 نومبر 2024 کے واقعات کی تحقیقات کے لیے دو الگ الگ تحقیقاتی کمیشنز تشکیل دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پارٹی نے درخواست کی ہے کہ یہ کمیشن چیف جسٹس یا سپریم کورٹ کے تین ججز پر مشتمل ہوں، جنہیں حکومت اور پی ٹی آئی مشترکہ طور پر نامزد کریں۔

پی ٹی آئی نے اپنے کارکنان کی رہائی، سیاسی قیدیوں کی سزاؤں کی معطلی اور ان کے مقدمات پر فوری نظرثانی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

رانا ثناءاللہ کا بیان

رانا ثناءاللہ نے کہا کہ حکومتی کمیٹی پی ٹی آئی کے مطالبات پر غور کرے گی اور ان کا باضابطہ جواب دے گی۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پہلے ہی تحقیقات کا حصہ بن چکے ہیں اور یہ معاملات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، اس لیے ان پر مزید انکوائری ممکن نہیں۔

انہوں نے پی ٹی آئی کی جانب سے کارکنان کی ہلاکتوں اور گمشدگی کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروپیگنڈا ہے۔ اگر سینکڑوں کارکنان لاپتہ یا ہلاک ہوتے تو ان کے اہل خانہ احتجاج کرتے۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات

یہ مذاکرات اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوئے، جہاں پی ٹی آئی نے اپنے مطالبات پیش کیے۔

پی ٹی آئی نے کہا کہ اگر ان کے مطالبات پر سات دن کے اندر عمل درآمد نہ کیا گیا تو وہ مذاکرات کا سلسلہ جاری نہیں رکھیں گے۔

عوامی مفاد اور سیاسی استحکام کی ضرورت

ملک میں موجودہ سیاسی صورتحال حکومت اور اپوزیشن کے درمیان افہام و تفہیم کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ سیاسی مسائل کا آئینی اور قانونی حل ہی عوامی مسائل کے حل کا راستہ فراہم کر سکتا ہے۔ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام مطالبات کا جائزہ لیا جائے گا اور عوام کے مفاد کو اولین ترجیح دی جائے گی۔

یہ معاملہ سیاسی جماعتوں کے درمیان شفاف مذاکرات اور قانون کی بالادستی کی اہمیت پر زور دیتا ہے، جو ملک کے سیاسی اور جمہوری استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

شدید بارشیں اور طوفان: موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرناک اثر

جرمن چانسلر فریڈرک مرز کا خطرناک اعلان: "۸۰ فیصد شامی باشندے تین سال میں ڈیپورٹ

روٹی اور جان کی جنگ: کیا خلیج میں کام کرنا اب موت کا سودا ہے؟