وزیراعظم کا کرم میں دیرپا امن کی امید: دوسرا امدادی قافلہ متاثرہ علاقوں میں پہنچ گیا

 




وزیراعظم کا کرم میں دیرپا امن کی امید: دوسرا امدادی قافلہ متاثرہ علاقوں میں پہنچ گیا

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کرم ضلع میں حالات کی بہتری پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ امن معاہدے کے بعد علاقے میں دیرپا امن کے قیام کی امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں ضروری اشیاء کی فراہمی جاری ہے، اور صورتحال آہستہ آہستہ معمول پر آ رہی ہے۔

کرم میں دوسرا امدادی قافلہ پہنچ گیا

منگل کو کرم کے متاثرہ علاقوں میں امدادی اشیاء کا دوسرا قافلہ پہنچا، جس میں 25 گاڑیاں شامل تھیں جو آٹا، چینی، گھی اور دوائیوں جیسی ضروری اشیاء لے کر گئیں۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق، یہ اشیاء پاراچنار، بوشہرہ، علیزئی اور دیگر متاثرہ علاقوں میں تقسیم کی جائیں گی۔ امدادی قافلے کی حفاظت کے لیے سخت سیکیورٹی اقدامات کیے گئے۔

امن کی بحالی کے اقدامات

وزیراعظم نے بتایا کہ کرم میں امن کی بحالی کے لیے بنکرز کو ختم کیا جا رہا ہے اور متاثرہ علاقوں میں راشن اور دوائیوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو امن کے قیام کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔

کرم میں قبائلی فسادات کے نتیجے میں 130 سے زائد جانیں ضائع ہوئیں اور راستے 100 دن سے زیادہ بند رہے۔ تاہم، کوہاٹ امن معاہدے کے تحت پولیس اور سیکورٹی فورسز نے نچلے کرم کے علاقوں جیسے خڑ کلی اور بلیش خیل میں بنکرز ختم کرنے کی کارروائیاں مکمل کر لیں۔

تعلیم کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت

کابینہ اجلاس میں وزیراعظم نے تعلیم کے شعبے میں درپیش چیلنجز کو حل کرنے کے لیے فعال اقدامات کی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 2.28 کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جن میں زیادہ تر لڑکیاں شامل ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے صوبوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ایک قومی خدمت ہوگی۔

دیگر اہم اعلانات

  • وزیراعظم نے پی آئی اے کی پروازوں کی یورپ میں بحالی کو بڑی کامیابی قرار دیا۔
  • پاک ایران سرحد پر ایک نیا کراسنگ پوائنٹ کھولا گیا ہے جو قانونی تجارت کو فروغ دے گا اور اسمگلنگ کو روکنے میں مددگار ہوگا۔
  • بلوچستان میں ایک انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران 27 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔

کلیدی الفاظ

کرم امن معاہدہ، امدادی قافلہ، شہباز شریف، قبائلی فسادات، تعلیم میں اصلاحات، بنکرز کا خاتمہ، پی آئی اے پروازیں، پاک ایران تجارت، لڑکیوں کی تعلیم، پاکستان کی امن کوششیں۔

Comments

Popular posts from this blog

شدید بارشیں اور طوفان: موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرناک اثر

جرمن چانسلر فریڈرک مرز کا خطرناک اعلان: "۸۰ فیصد شامی باشندے تین سال میں ڈیپورٹ

روٹی اور جان کی جنگ: کیا خلیج میں کام کرنا اب موت کا سودا ہے؟