سعودی عرب نے 2019 سے 2024 کے دوران 7,208 پاکستانی قیدی رہا کیے
سعودی عرب نے 2019 سے 2024 کے دوران 7,208 پاکستانی قیدی رہا کیے، سینیٹ کو آگاہ کیا گیا
سعودی عرب نے 2019 سے 2024 کے درمیان 7,208 پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا، وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سینیٹ کو بتایا۔ اس عرصے میں قیدیوں کی رہائی میں خاص اضافہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے 2019 میں پاکستان کے تاریخی دورے کے بعد ہوا، جب اُس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے پاکستانی قیدیوں کی رہائی کی درخواست کی تھی۔
قیدیوں کی رہائی کا تفصیلی جائزہ
اسحاق ڈار نے سینیٹ کو بتایا کہ:
- 2019 میں 545 قیدی رہا کیے گئے۔
- 2020 میں 892 قیدی رہا ہوئے۔
- 2021 میں 916 قیدیوں کو آزادی ملی۔
- 2022 میں یہ تعداد 1,331 رہی۔
- 2023 میں 1,394 پاکستانی قیدی رہا کیے گئے۔
- 2024 میں سب سے زیادہ 2,130 قیدیوں کی رہائی عمل میں آئی۔
بیرون ملک قید پاکستانیوں کے لیے حکومتی اقدامات
وزیر خارجہ نے بتایا کہ وزارتِ خارجہ ایک جامع قونصلر پالیسی تیار کر رہی ہے تاکہ غیر ملکی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی مدد کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ قونصلر افسران ان قیدیوں سے ملاقات کرتے ہیں، قانونی معاونت فراہم کرتے ہیں، اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قوانین کے تحت کام کرتے ہیں۔
دنیا بھر میں پاکستانی قیدیوں کی صورتحال
اس وقت 23,456 پاکستانی شہری مختلف ممالک کی جیلوں میں قید ہیں، جن میں سے:
- سعودی عرب: 12,156
- متحدہ عرب امارات: 5,292
- یونان: 811
- قطر: 338
قیدیوں کے مسائل
ڈار نے وضاحت کی کہ زیادہ تر قیدی غیر قانونی طور پر بیرون ملک مقیم تھے، جبکہ دیگر معمولی جرائم میں ملوث پائے گئے۔ قیدیوں کی مسلسل آمد و رفت کی وجہ سے رہا کیے گئے افراد کی صحیح تعداد معلوم کرنا مشکل ہے۔
حکومتی عزم
حکومت نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے حقوق کا تحفظ اور ان کی مدد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
اہم الفاظ: پاکستانی قیدی، سعودی عرب، قونصلر پالیسی، اسحاق ڈار، غیر قانونی رہائش، بیرون ملک پاکستانی، قیدیوں کی رہائی، وزارتِ خارجہ۔
Comments
Post a Comment